Wednesday, 27 September 2006 17:44

Training Manual in Urdu, Kashmir Technical Training Center (KTTC) Bagh

Written by  KRRC
Rate this item
(0 votes)
 
 
کشمیر ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر  برائے زلزلہ متاثرین


واٹر سپلائی روڈ، باغ آزاد کشمیر

ٹیلی فون نمبر 058720-79025-43106

زلزلے سے محفوظ مکانات/عمارات کی تعمیر
 

ایک قدیم روایت ہے کہ مکان دیکھنے کے لئے نہیں بلکہ رہائش کے لئے بنائے جاتے ہیں اس بات کی اہمیت کرہ ارض کے ان علاقوں میں اور بڑھ جاتی ہے جہاں زلزلے اور طوفان  آتے رہتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی صورتحال  آٹھ اکتوبر ۲۰۰۵ کو ہمارے ملک میں پیش آئی۔ جس میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات  بشمول آزاد کشمیر اور صوبہ سرحد میں  لاکھوں  مکان  زلزلے کی زد میں آ کر  منہدم ہو گئے اور ہزاروں انسان لقمہ اجل بن گئے۔  پاکستان کا شمالی علاقہ دنیا کے اس خطہ میں واقع ہے  جسے(Seismologically Active Zone)   کہا جاتا ہے۔ یعنی یہاں درمیانے اور  شدید زلزلے آنے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔  چنانچہ  ضرورت اس بات کی ہے کہ ان علاقوں میں ایسے مکان اور عمارتیں تعمیر کی جائیں جوزلزلوں  سے محفوظ ہو ں  اور جن کی تعمیری لاگت بہت کم ہو۔  ہم آفات ارضی اور سماوی کو تو نہیں روک سکتے اور نہ زلزلے جیسی آفت کی پیشن گوئی کر سکتے ہیں لیکن محفوظ عمارات کو تعمیر کرکے انسانی جانوں کو بڑی حد تک بچایا جا سکتا ہے۔



زلزلہ کیا ہے اور  یہ مکانات کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟



    زلزلہ زمین  کے اندر پائی جانے والی  بڑی بڑی پلیٹوں (چٹانوں) کی حرکت سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ حرکتیں دائیں سے بائیں  اور اوپر نیچے کی صورت میں ہوتی ہیں۔ زمین کی حرکت کے ساتھ ساتھ اس پر بنی ہوئی عمارت بھی اسی طرح حرکت کرتی ہے۔ لیکن باقی ماندہ عمارت اس طرح کی حرکت نہیں کر سکتی چنانچہ اس سے عمارت میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں یا دیواریں شکستہ ہو کر ٹوٹ جاتی ہیں اور اس  کے ساتھ ہی مکان کی چھت گر جاتی ہے۔

کیا زلزلے سے محفوظ مکان تعمیر کیے جا سکتے ہیں؟
زلزلوں سے سو فیصد محفوظ مکان تعمیر کرنا  تو محض ایک تصوراتی شے ہے البتہ ایسے مکان ضرور تعمیر کیے جاسکتے ہیں جو ہلکے اور درمیانے درجے کے زلزلوں کو بردداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

عمارت کی مضبوطی کا معیار

 ایسی عمارت تعمیر کی جائے جو شدید زلزلے کی صورت میں منہدم نہ ہو سکے تا کہ انسان محفوظ رہیں اور ملبے تلے نہ دب سکیں۔ زلزلے سے محفوظ  مکان بنانے کی لاگت بہت زیادہ ہو سکتی ہے البتہ اس کو فنی مہارت کے ساتھ کم کیا  جا سکتا ہے۔

زلزلے سے محفوظ عمارت کی تعمیر میں کن بنیادی باتوں کا خیال رکھنا  ضروری ہے؟

     ۱۔ مکان کا ڈھانچہ ہلکہ پھلکہ ہو اور بھاری نہ ہو۔

    ۲۔مکان کی بنیاد  اور چھت آپس میں جڑے ہوئے ہوں۔جس کے لئے سٹیل کے ستون ،  بانس یا کوئی اور مٹیریل استعمال کیا جا

     سکتا ہے۔ تا کہ پورا  مکان ایک اکائی کی طرح ادھر ادھر جھولتے ہوئے ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رہ سکے۔



جگہ کا انتخاب (Site Selection)

  جو مقامات زلزلہ کی زد میں رہتے ہیں۔ وہاں مکان کی تعمیر کے لئے مناسب جگہ کا انتخاب (Site Selection) انتہائی ضروری ہے۔ جگہ کے انتخاب کے لئے چند بنیادی باتوں کا خیال رکھا جائے۔

    ۱۔    مکان کی تعمیر کے لئے ہموار جگہ کا انتخاب کیا جائے۔

    ۲۔    پہاڑی کو کاٹ کر  مکان کی دیوار نہ بنائی جائے ورنہ زلزلہ آنے کی صورت میں دیوار افقی  قوتوں کے زیر اثر آ سکتی ہے۔

    ۳۔    ڈھلوان  پر مکان ہر گز  تعمیر نہ کیا جائے ورنہ زلزلہ کی صورت میں پورا مکان کھسک کر     نیچے گر سکتا ہے۔

    ۴۔    ڈھلوان والی سطح پر تعمیر سے پہلے ایک افقی پلیٹ فارم  تعمیر کیا جائے اور مکان  اس کے  اوپر تعمیر کیا جائے۔

    ۵۔    ایسی جگہ کا انتخاب نہ کیا جائے جہاں درخت زیادہ ہوں کیونکہ درختوں کی جڑیں عمارت کی بنیاد کو نقصان پہنچا  سکتی ہیں۔

         اس کے علاوہ زلزلے کے دواران کوئی درخت مکان پر گر     کے بھی اس کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    ۶۔    دریا کے کنارے یا  ندی نالوں کے نزدیک عمارت کی تعمیر نہ کی جائے۔  چونکہ زیادہ  نمی والی جگہ عمارت کی بنیاد کو نقصان پہنچا  سکتی ہے۔



عمارت کا پلان(Plan of Building)

 مکان کی تعمیر کے سلسلے میںپلان کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ مستطیل  یا  ایل  شکل کے پلان نہ بنائے جائیں ۔ اس کے بجائے مربع یا دائرہ کی شکل میں پلان بنائے جائیں جو مکان کی مضبوطی کے حامل ہو سکتے ہیں۔

ڈیزائن کی خامیاں(Faults of Design)

مکان کی تعمیر میںڈیزائن  سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ڈیزائن میں خامیوں کی وجہ سے مکان زلزلے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔  زلزلے کے جھٹکوں سے مکان کی کھڑکی کے کونوں سے چھت اور فرش تک دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔۔ چند خامیاں مندرجہ ذیل ہیں۔

    ۱۔     رنِگ بیم کی عدم موجودگی

        ۲لنٹل دیواروں میں مضبوطی سے جوڑے نہیں گئے

    ۳۔    دروازے اور کھڑکی کی درمیانی دیوار کی چوڑائی بہت کم ہے

    ۴۔    دروازے اور دیوار کا درمیانی فاصلہ بہت کم ہے۔

    ۵۔    مکان کی بنیاد موجود نہیں ہے۔

    ۶۔    مکان کی اونچائی کے مقابلے میں کھڑکی کی چوڑائی بہت زیادہ ہے۔

     ۷۔    دیوار بہت پتلی ہے۔

    ۸۔    سیمنٹ کے امیزے کا معیار عمدہ  نہیں ہے جس کی وجہ سے پلاسٹر اکھڑ گیا۔

    ۹۔    مکان کی چھت بہت وزنی ہے۔

    ۱۰۔    چھت کو دیوروں سے مضبوطی سے جوڑا نہیں گیا۔

    زلزلے کے دوران خطرناک ترین صورت یہ ہے کہ دیواریں باہر کی طرف گر جائیں اور چھت نیچے آپڑے۔ اگر چھت کا لنٹل لمبا  نہ ہو  اور دیواروں سے  پوری مضبوطی سے جڑا ہو انہ ہو  تو وہ غیر متوازن ہو کر دیواروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر چھت اور دیواروں کے درمیان رِنگ بیم نہیں تو  چھت کے وزن  اور  حرکت سے دیواریں ٹوٹ سکتی ہیں۔



تعمیراتی ماڈل نمبر

۱پتھر ،مٹی ، لکڑی اور چونے یا سیمٹ سے تعمیر کیا جانے والا مکان

بنیاد(Foundation )

    پتھر یا مٹی سے تعمیر کیے جانے والے مکان میں بنیاد جگہ کی مناسبت سے تیار کی جاتی ہے۔ مکان کی بنیاد میں پتھروں کو ترتیب سے بنا کر نسب کر دیا  جاتا ہے یعنی پتھروں کے جوڑ  ملائے جاتے ہیں۔ خالی جگہوں پر گارا  بھاری درمٹ سے بھر دیاہے۔ ہر پتھر لگانے کے بعد کاریگر یہ تسلی  کر لیتا ہے کہ پتھر کی سائیڈیں گارے سے بھر دی گئی ہیں۔ اس میں دوسلّو یعنی لمبا پتھر ہر تین فٹ کے فا صلے پر لگایا جاتا ہے۔ بنیاد میں پتھروں کی چنائی بہت ضروری ہے۔

چونے کا استعمال

    کچے یعنی مٹی سے تعمیر کیے جانے والے گھر کے لئے گارا  یا چکنی مٹی پہلے سے تیار کر لی جاتی ہے۔  اور اس کے ساتھ  اس میں دس فیصد چونا ملایا جاتا ہے۔ تا کہ چونا نمی کو روک سکے  اور مٹی میں موجود دیمک کا مناسب تدارک کیا جا سکے ۔ 

مٹی کی دیوار کی ساخت

    لکڑی کے مستطیل نما  فریم (۱۰ سے۱۵ سنٹی میٹر  چوڑے) کو گیلی مٹی سے بھر دیا جاتا ہے او ر بھاری درمٹ سے کوٹ کر دبا دیا جاتا ہے۔ اس طرح فریم کے اندر ایک دیوار بن جاتی ہے۔  جدید فریموں میں فولادی بار استعمال کیے جاتے ہیں۔ مٹی کی دیواریں اسی صورت زلزلے سے محفوظ رہ سکتی ہیں کہ ان کی موٹائی ۶۰ سے۱۰۰ سنٹی میٹر  تک ہو لیکن ایسی  دیوار خاصی مہنگی پڑتی ہے۔ لہذا کوئی  اور  طریقہ ہونا چاہیے جس سے دیوار نسبتاً پتلی اور کم لاگت سے تیار ہو سکے۔ تحقیق سے دریافت کیا گیا ہے کہ دیوار کو  روائیتی شکل کے بجائے ٹی( T) یا ایل(L) وغیرہ کی شکل میں بنایا جائے۔  اس شکل کی دیواریں عمودی اور افقی دباو کو  برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مٹی کی دیواروں کی پائیداری کے لئے یہ تجویز کیا جا تا ہے کہ ان کے اندر فولادی سلاخیں یا بانس لگائے جائیں۔  جن کا نچلا سرا تو فرش کی بنیاد میں اور اوپر والا  سرا چھت کی رِنگ بیم کے ساتھ جڑا ہو۔

جدید ترین طریقہ تعمیر میں مٹی کی دیواروں کے اندر چار چار بانس  (۲سے۳سنٹی میٹرگولائی)  گاڑے جاتے ہیں۔ جن کا نچلا سرا مکان کی بنیاد میں اور  اوپر والا سرا چھت کی رِنگ بیم میں پوست  کر دیا جاتا ہے تا کہ زلزلہ آنے کی صورت میں چھت اور دیواریں  الگ الگ جھول نہ سکیں۔    دیوار وں میں روشن دانوں کا سائز (18"x18")  رکھا جائے۔





مٹی کے بلاکو ں سے دیوار کی تعمیر



مٹ کے بلاک جنھیں کچی اینٹیں بھی کہا جاتا ہے۔ زلزلے سے محفوظ مکانوں کی تعمیر میں بکثرت  استعمال کیے جاتے ہیں۔ لکڑی کے فریموں میں گیلی مٹی دال کر بنایا جا سکتا ہے۔ یا دستی پریس مشین سے زیادہ اچھی شکل کے بلاک تیار کیے جا سکتے ہیں۔

مٹی کے ان بلاکوں کے مرکز میں ایک سوراخ رکھا جاتا ہے۔ جب بلاک اوپر تلے رکھ کر دیوار  بنائی جاتی ہے توا ان سوراخوں سے فولاد کا سریا  یا بانس گزار کر بنیاد  میں گھسا دیا جاتا ہیں۔ اس کے بعد سوراخ کو سیمنٹ سے بھر دیا جاتا ہے۔ اگر اس دیوار کے بلاک نیچے  بنیاد میں اور  اوپر رنِگ نیم میں مضبوطی سے لگا دیے جائیں تو  یہ دیوار زلزلے سے محفوظ ترین دیوار بن جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے زلزلوں کے جھٹکوں سے اس دیوار میں لچکیلا پن ہونے کے باعث ٹوٹنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ اس قسم کی دیواروں کی تعمیر کا نظریہ ایشین انسٹی ٹیوٹ  آف  ٹیکنالوجی  بنکاک نے پیش کیا تھا۔ اس طریقے کو مزید بہتر بنانے کے لئے ایک جرمن ارکیٹیکٹ نے بلاکوں میں ۴۰ ملی میٹر چمٹیاں(Tongues )اور اتنی ہی چوڑی جہریاں(Grooves)بنائی اس طرح  بلاک ایک دوسرے  میں شکنجے کی طرح پھنس جاتے ہیں اور زلزلے کے  جھٹکوں میں دائیں  بائیں  یا اوپر نیچے  کے جھٹکوں سے ٹوٹتے نہیں۔  بلکہ  اپنی پہلی پوزیشن میں واپس آ جا تے ہیں۔ اس طرح دیوار ٹو ٹنے سے محفوظ رہتی ہے۔  لاطینی  امریکہ میں زلزلہ سے بچاو کے لئے ایسی دیواریں بنائی  جاتی ہیں۔ جن میں لکڑی کے پتلے شہترے عمودی  اور  افقی  شکل میں ایک جالی کی طرح لگائے جاتے ہیں۔بعد ازاں خالی جگہوں کو مٹی سے  بھر دیا  جاتا ہے۔ اگر بانس اور لکڑی دستیاب ہوں تو یہ طریقہ بخوبی اپنایا جا سکتا ہے۔  گوئٹے مالا میں تجرباتی طور پر زلزلے سے محفوظ گھر بنائے گئے جن کی دیواروں میں مٹی سے بھرے پٹ سن کے بیگ بطوربلاک استعمال کئے گئے۔ اس طریقہ تعمیر میں اگر پٹ سن دستیاب نہ ہو تو نائلون ، کھدر یا کسی دوسرے میٹریل کے تھیلے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔



بنیاد اور چھت کے جوڑ

    ہر مکان میں بنیاد، فرش، دیواریں اور چھتیں ہوتی ہیں۔ ان چاروں کا اپس میں مضبوطی سے جڑا ہونا ہی مکان کی مضبوطی کا اولین اصول ہے۔

    تحقیق  سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ ۳۰ سے ۴۰ سیٹی میٹر موٹی دیوار کے لئے کم از کم ۲۰ سینٹی میٹر سے زیادہ چوڑی اور ۴۰ سینٹی میٹر سے زیادہ اونچی بنیاد ہونی چاہیے۔اگر دیوار  ۵۰ سینٹی میٹر موٹی ہو تو بنیاد اور  فرش کی موٹائی بھی اسی کے مطابق رھی جائے۔ ذیل میں دی گئی تصاویر سے بیناد  دیوار کو مضبوطی سے جوڑنے کا انداز  دکھایا گیا ہے۔

    دیوار کو چھت سے مضبوطی سے جوڑنے کے لئے ۔۔ رِنگ بیم کا استعمال ضروری ہے۔ تا کہ زلزلے کی صورت میں یہ بیم چھت کے جھکاو کے وزن کو براشت کر سکے۔ چھت کو کریک ہونے یا گرنے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ چھت اور رنگ بیم کے مابین جوڑ انتہائی مضبوط ہو۔ شکل نمبر 7.3 میں مضبوطی سے جوڑنے کا طریقہ دکھایا گیا ہے۔ ایک بہتر صورت شکل نمبر7.4 میں دکھائی گئی ہے۔ جس میں رِنگ بیم لکڑی کے  دہرے شہتیر پر مشتمل ہے۔

    رنِگ بیم کے کونے بھی اس طرح سے بنائے جائیں کہ زلزلے کے جھٹکوں کی حرکت کو ایک دوسرے میں ٹرانسفر کر سکیں۔ انہیں بہت مضبوط اور سخت ہونا چاہیے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل اشکال میں دکھایا گیا ہے


مکان کی چھت

    زلزلے سے محفوظ مکان کی تعمیر کے لئے ضروری ہے کہ اس کی چھت ہلکے وزن کی ہو۔ چھت میں ٹائلیں یا پتھرون کے ٹکڑے استعمال نہ کئے جائیں کیونکہ زلزلے کے جھٹکوں سے یہ پتھر وغیرہ نیچے گر سکتے ہےَ اس کا بہترین حل تو یہ ہے کہ چھت ایسی بنائی جائے جس میں چاروں طرف مخروطی ڈھلانیں (Inclinel Planes) ہوں۔  اور چاروں کا وزن ایک افقی بیم پر پڑے جیسا کہ شکل 9.1 میں دکھایا گیا ہے۔

    دوسرا حل یہ ہے کہ دو مخروطی ڈھلانوں والی چھت بنائی جائے لیکن اس میں ضروری ہے۔ چھت رنِگ بیم کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہو اور گیبل سے : کراس:  + کی شکل میں پیوست ہو۔ دیکھیں شکل نمبر  9.2, 9.1  اور9.3

    اگر مکان بڑا ہے تو بہتر یہ ہے کہ اس پر علیحدہ علیحدہ چھتیں ڈالی جائیں۔ بہر حال سب سے بہتر حل تو یہ ہے کہ چھت دیواروں میں پیوست کرنے کی بجائے ستونوں کے سہارے فرش کے ساتھ جڑی ہوئی ہو۔ تا کہ زلزلہ آنے کی صورت میں چھت اور دیواریں علیحدہ علیحدہ آزادانہ حرکت کر سکیں۔ اس سے ٹوٹ پھوٹ کا خظرہ بے حد کم ہو جاتا ہے۔ یہ ستون دیواروں کے اندر یا  باہر بنائے جا سکتے ہیں۔

 شکل نمبر 9.4

اگر کئی منزلہ فلیٹ تعمیر کرنے ہوں تو اس عمارت میں گراونڈ فلور کو ٹیڑھے شہتیروں (یا ستونوں) کے ذریعے مضبوط بنایا جا سکتا ہے جیسا کہ درج ذیل اشکال میں دکھایا گیا ہے۔ یہ ستون عمارت کی مزید منزلوں کا بوجھ آسانی برداشت کر سکتے ہیں اور زلزلے کے جھٹکوں سے اسے محفوظ رکھتے ہیں۔مٹی ، پتھر، لکڑی اور چونے/ سیمنٹ سے تعمیر کیے جانے والے مکان کے چند بنیادی اصول مندرجہ ذیل ہیں۔

بنانے کا طریقہ:

    ۱۔     ملبے سے استعمال کے قابل چیزوں کو الگ کر لیں۔

     ۲۔    اگر زمین پتھریلی نہیں ہے تو بنیاد 1/2 تک کھود لیں

    ۳۔    بنیاد میں پتھر  چنائی کریں۔ مٹی میں10%  چونا ملا کر مصالہ بنائیں اور تہوں میں پوری طرح بھر دیں۔

    ۴۔    جب دیوار فرش کی سطح تک پہنچ جائے تو (16") چوڑی لوہے کی جالی لگا دیں۔

    ۵۔    دیوار کی چنائی  فرش سے ۳ فٹ اوپر اٹھا  دیں۔ اسکی چنائی کے لئیئ بھی مٹی  اور چونے کا10% کا مصالحہ لگائیں۔

    ۶۔    چنائی کے اوپر 4"x4"  کے بالے یا شہتیر دیوار کے اندر اور باہر کی طرف لگا دیں۔  درمیان میں اور کونوں میں لکڑی

         کے ٹکڑوں کو سیڑھی کی طرح کیل سے ٹھونک دیں۔

    ۷۔    لکڑی کے ٹکروں کی مدد سے دھجی دیوار بھی تعمیر کی جا سکتی ہے۔ جو انتہائی مفید ثابت ہوتی ہے۔ یہ  دیوار  ) (1  انچ موٹی

         ) (4انچ چوڑی پٹی کی مدد سے تیار کی جاتی ہے۔ اس کو جوڑنے کے لئے (2)انچ  اور  (3) انچ کے کیل استعمال کیے

         جا تے ہیں چنانچہ یہ زلزلہ کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    ۸۔    دیوار کے کونوں میں 16"     ل
Last modified on Tuesday, 06 July 2010 08:23
KRRC

Latest from KRRC

back to top